نئی دہلی،4/فروری (ایس او نیوز/پریس ریلیز) شہریت ترمیمی قانون بننے کے بعد سے ہندوستان کے ہر گوشے اور پوری دنیا کے مختلف علاقوں میں لوگ اس کے خلاف اپنے غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کر رہے ہیں۔حکومت کی لاکھ کوششوں کے بعد اب یہ احتجاج تھمنے کا کا نام نہیں لے رہا ہے۔اس میں ابتک کئی لوگوں کی جانیں بھی جاچکی ہیں،لیکن حکومت اس قانون کو واپس لینے کے لئے تیار نہیں ہے۔دہلی کے جنتر منتر پر سی اے اے این آر سی کے خلاف سنی اسٹوڈینس فیڈریشن نے احتجاجی ریلی نکالی۔ایس ایس ایف کے رضا کاران اپنے ہاتھ میں تختی اورقومی پرچم لئے ہوئے تھے۔مظاہرین نے کالے قانون کے خلاف جم کے نعرہ بازی کی۔اس موقع احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایس ایس ایف کے قومی صدر مولانا شوکت بخاری نے کہا کہ یہ قانون ہمارے ملک کے پاک نظریہ اور پاک آئین کے خلاف ہے۔انہوں نے کہاکہ جہاں این آر سی سے اصلی ہندوستانیوں کی شہریت خطرہ میں پڑنے کا اندیشہ ہے۔جس کی نظیر آسام میں موجود ہے،وہیں سی اے اے مذہبی بھید بھاؤ والا قانون ہے۔یہ ہندوستان کو بانٹے اور آپسی دشمنی پھیلانے والا قانون ہے۔انہوں نے کہاکہ آج جمہوریت پسندتمام ہندوستانی اپنے اتحاد واتفاق اور قومی یکجہتی،ملکی سا لمیت،جمہوریت کے تحفظ کے لئے سڑکوں پر ہیں۔انہوں نے افسوس جتاتے ہوئے کہاکہ پُر امن احتجاج کرنے والوں کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کیا جارہا ہے ان کو دیش دروہ اور دہشت گرد بتایا جارہاہے۔جو ناقابل برداشت ہے۔ قانون کے دائرہ میں رہ کر پُر امن ماحول میں احتجاج ہمارا بنیادی حق ہے۔یہ مظاہرہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ کالا قانون واپس نہ ہوجائے۔ہم باپو کے دیش کو کسی بھی حالت میں ختم نہیں ہونے دیں گے۔احتجاج سے جے این یو اسٹوڈینس یونین کاؤنسلروشرنو پرساد،ایس ایس ایف کے قومی نائب صدر ظہیر الدین نورانی،جنرل سکریٹری شریف بنگلور،نوشاد عالم اور جامعہ ملیہ یونین کے اہم رکن شاہ الحمید نے بھی خطاب کیا۔قبل ازیں ایس ایس ایف ایگزیکٹوممبران کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں ملک کی مختلف ریاستوں کے ممبران اور کئی یونیورسٹیز کے طلبہ بھی شریک رہے۔جس میں گنگا جمنی تہذیب کی بقا،قومی یکجہتی،آپسی رواداری کے تئیں عہد وپیمان لیا گیا۔ظہیر الدین نورانی نے خیر مقدمی کلمات پیش کئے اور عبدالقادر صاحب نے ہدیہ تشکریہ پیش کرکے پروگرام کو اختتام تک پہونچایا۔